|
|
|
شاعری
سیکھئے |
اردو لائف کی جانب سے جناب پروفیسر
سید تفسیر احمد صاحب کی زیرِ نگرانی،
11 جون 2006 سے شاعری سیکھنے کا
ایک آن لائن کورس
شروع کیا جارہا ہے۔ جس میں
شمولیت حاصل کر کے آپ نہ صرف شاعری کے اسرار و رموز سے
واقف ہوکر شاعری سے بہتر طور پر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ بلکہ آپ اپنی شاعری
کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔
اگر آپ اس کورس میں شمولیت حاصل کرنا چاہیں تو
درج ذیل ای میل پر ہم سے رابطہ کریں۔
poetry@urdulife.com
اور کچھ نمونہِ کلام
بھی ارسال کریں۔ شکریہ |
پروفیسرسیدتفسیراحمد، پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے سی
ایم ایس سیکنڈری اسکول لارنس روڈ سے فرسٹ ڈیویزن میں میٹرک پاس کیا اورآپ نے
کراچی سیکنڈری بورڈ آف ایجوکیشن میں اس سال دسویں پوزیشن حاصل کی۔ ڈی جے
سائینس کالج سے بی ایس سی کر کے امریکہ چلے گئے ۔ لاس انجلس میں ویسٹ کوسٹ
یونی ورسٹی سے الیکٹریکل انجینرینگ میں بی ایس کیا ا ور پھریونیورسٹی آف
کیلیفورنیا ایٹ لاس انجیلس سے کمپوٹر سائینس میں ایم اس کی ڈگری حاصل کی۔
پروفیسرتفسیر مور پار ک کا لج ، مور پارک ،کیلفورنیا کے فیکلٹی ممبر
ہیں۔اور ایک ملٹی بیلین ڈالر کمپنی میں انفارمییشن منیجمنٹ کے ممبر ہیں۔
ان کا پہلا ناول " پختون کی بیٹی" 2004 ءمیں شائع ہوا ۔ پختون کی بیٹی کی
کامیابی کے بعد 2005ء اُن کی نظموں اور غزلوں کا مجموع " یادوں کے چنار"
اشاعت پذیر ہوا ۔اسکے علاوہ ان کے افسانے، ٹھنڈے لب۔ پرندے کیوں اُڑتے ہیں؟
(پرواز) ۔مدوجزر ۔ ا با جان کے ہاں وغیرہ مختلف جریدو ں اور انٹرنیٹ پر کئی
ویب سائٹس پر شائع ہوچکے ہیں۔ پروفیسر تفسیرکے افسانے حقیقت پر مبنی ہوتے
ہیں اور نہ صرف معاشری برائیوں کو انکشاف کرتے ہیں بلکہ ان کا حل بھی پیش
کرتے ہیں۔پروفیسر تفسیر کی رہائش لاس انجیلس کے ایک نواحی علا قہ اگورا ہلز
ہیں ہے |
|
|
تخیل اور فطرت ِانسانی کو مئوثر ، دلکش اندازاور مناسب الفاظ میں پیش کرنے
والا شاعر کہلاتا ہے۔شاعری میں یہ بات تسلیم کرلی گی ہے کہ شاعری اکتساب سے
حاصل نہیں ہوتی بلکہ جس میں شاعری کا مادہ پہلے سے ہوتا ہے وہی شاعرہے۔ کہا
گیا ہے کہ شاعر بنتا نہیں پیدا ہوتا ہے۔ ا س مبالغہ کی ابتدا پچھلے زمانے
میں ہوئی اور آج جو لوگ اپنے آپ کو کُہناشاعر سمجھتے ہیں انہوں نے اس افواہ
کوآج کے دور میں بھی پھیلایا۔ ہر فن میں اس کا فنکار چاہتا ہے کہ اس فن میں
کم سے کم لوگ اس کے ہم مقابلہ ہوں اس لئے وہ نئے فنکاروں کے راستوں میں
بلنددیواریں کھڑی کرتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ شاعری کے استادصرف چُنے ہوئے
شاگردوں کو علم عروض سکھاتے ہیں وہ بھی تھوڑا تھوڑا کر کے اور باقی شاعری
کو سیکھنے والوں سے یہ کہہ دہتے ہیں کہ "تمہارا کلام نا قابلِ اصلاح ہے"۔
موزوں اور نا موزوں کلام میں علم عروض سے تمیز کی جاتی ہے۔
اب شاعری کی طرف آئیے۔
محبت ، انسانیت کا سب سے بڑا جذبہ ہے۔ غزل اس جذبہ کا اظہار خوبصورتی سے
کرتی ہے۔شاعری میں غزل کے معنی " سخن با محبوب گفتاں" کے ہیں۔ ذیادہ تر لوگ
شاعری میں غزل کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے محبوب سے باتیں کر نا
چاہتے ہیں۔ یہ غزل کی بصیرت ہے جو پنہاں اشارے کنائے اور استعاری علامت
کھنچتی ہے ۔ دلیل دینا دماغ کی زبان ہے جہاں استعارہ، الہام ربانی ہے۔ شاعر
کی بصیرت باطنی ہے جب وہ معمولی سی چیزوں کو دیکھتا ہے تو وہ انکو ایک رنگ
میں ڈھال لیتا ہے۔ غزل شعروں کا مجموعہ ہے۔شعرکی خوبی یہ ہے کہ وہ سادہ ہو
اور جوش سے بھرا ہو ا اور عقیدہ پر مبنی ہو ، مگرشعر کو بحور، اوزان ، ردیف
اور قافیہ کی ضرورت نہیںہوتی۔ نظم میں یہ چیزیں معتبر ہیں۔ غزل کی دنیا کے
اپنے اصول ہوتے ہیں۔ جسطرح ایک زبان کو اسکی گرامر جانے بغیرسمجھنے میں
مشکل ہوتی ہے اسی طرح غزل سے لطف انداز ہونےکے لئے اسکی باریکیاں جانا
ضروری ہیں۔ یہ باریکیاں بحر، وزن، قافیہ اور ردیف کہلاتی ہیں۔
اگر آپ دلی میں رہنا چاہتے ہیں تو آپ کودلی کے طریقہ کار سیکھنے ہونگے اگر
لکھنو میں لکھنو کے۔ لہذا پیدائشی شاعروں کی دنیا میں ایک شاعربنّے کے لے
آپ کو ان کی شاعری کے اصولوں کو سیکھنا ہو گا ۔ یہ آپ مجھ اکتسابی شاعر
سےکھئے۔اگر آپ نے مجھکو ہم سفر بنانے کی جرائت کی تو میں آپ کو ر اہ مستقیم
پرلگا دوں گا اس کے بعد راہ پر قائم رہنا اور سفر کو مکمل کرناآپ کا کام ہے
۔
|
|