|
ٍمیں
کیڈٹ کالج، حسن ابدال میں بطور لیکچرار اپنی زندگی کے ایام گزار رہا ہوں۔ شاعری کا
شوق بھی چرایا ہوا ہے۔
نام محمد ظہیر قندیل ہے۔ شاعری نوجوانی کے عالم سے جاری ہے۔شعر دل کی واردات رقم
کرنے کا نام ہے، سو! کر رہا ہوں۔
پسندیدہ شاعر بہت سے ہیں کس کس کا نام لوں اور کسے فراموش کر دوں ہر اچھا شعر کہنے
والا پسند ہے چاہے وہ غالب ہو،آتش ہو، داغ ہو، ، احمد فراز ہو، بشیر بدر ہو یا کہ
احمد ندیم قاسمی۔ سب پسند ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کا ایک شعر ہے
حسن
بیگانہ سے احساسِ جمال اچھا
ہے
غنچے کھلتے ہیں تو بک جاتے ہیں بازاروں میں
اسے آپ
میرا پسندیدہ شعر کہہ سکتے ہیں۔اصلاح کئی لوگوں سے لی۔ اصلاح اور شاعری لازم و
ملزوم ہے۔ میرے استاد ڈاکٹر پروفیسر ایوب صابر رہے ہیں۔
نمونہِ کلام
طلَب بیاں سے دور ہے
طلَب بیاں سے دور ہے
کہ دِل زُباں سے دور ہے
وُہی قریں بھی ہے مرے
جو کہکشاں سے دُور ہے
مرا جہاں وہی تو ہے
سکوں جہاں سے دور ہے
کِھلی کِھلی جو ہے کلی
!وہ قدرداں سے دور ہے
رسائی درِ حبیب
ابھی گُماں سے دور ہے
خُلوص ِ دِل کی بات ہے
خُدا کہاں سے دور ہے ؟
خوشی ، مسرّت وطَرَب
بھرے جہاں سے دور ہے
وہ سجدہِ خُلوصِ دِل
تری اذاں سے دور ہے
 |